عورت مارچ : وحیدالحسن نوشاہی کے قلم سے

اسلام نے جو حقوق عورت کو دیے دنیا کا کوئی مذہب دے نہیں سکا۔ عورت مارچ عورت کے حقوق کی آڑ میں اسلام کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش ہے۔ بےحیائی و بےشرمی کا مظاہرہ کرنے والیوں نے اسلام سے پہلے کی تاریخ پڑھی نہیں۔ اسلام سے قبل توعورت کومنحوس سمجھا جاتا تھا یہ پیدا ہوتے ہی مار دی جاتی تھی زندہ درگور کر دی جاتی تھی جانوروں کی طرح بازاروں میں بیچی جاتی تھی اسلام نے عزت دی تحفظ دیا اسلام ہی نےماں کے قدموں میں جنت، بیوی کو ملکہ، بیٹی کو شہزادی کی سی شان دی اور آج یہ چند غیرمذہب فنڈی عورتیں بازاروں میں عورت کی تزلیل کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا چاہتیں ہیں کہ عورت مظلوم ہےجس میں مولوی اور اسلام کا ہاتھ ہے۔کونسے ایسے حقوق ہیں جو اسلام نے ان کو نہ دیکر زیادتی کی ہو۔

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اسلامی جموریہ پاکستان میں عورت کے وراثت کے حق سمیت کافی ایسے حقوق جو اسلام نے دیے ہیں ہم رضاکارانہ طور پہ سلب کر جاتے ہیں لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ فحاشی پھلا کےعورت کے حقوق کی بات ہو رہی ہے جن کے حقوق مارے جاتے ہیں عورت مارچ میں ان کی تذلیل ہی ہوتی ہے نہ کے حمایت۔اس میں پلےکارڈز کی تحریریں تو عورت کے حقوق ظاہر نہیں کرتیں ان پہ تو فحاشی کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ بظاہر میڈیا پہ تو حقوق کی بات کر رہے ہیں لیکن عزائم کچھ اور ہیں اس سے بھی افسوس ناک بات یہ ہے کہ بہت حد تک میڈیا بھی اپنی دال روٹی کی لیےان کے ساتھ کھڑا ہے۔

تحریر: وحیدالحسن نوشاہی: کوٹلی آزادکشمیر

نوٹ : ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں