ضرورت رشتہ – ’’لڑکی پسند نہیں‘‘

اخبارات میں ضرورت رشتہ کے اشتہارات پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کےلیے یہ کتنا بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ لڑکے ہیں تو ان کی عمریں ڈھلتی جارہی ہیں اور لڑکیاں ہیں تو بیٹھے بیٹھے بالوں میں چاندی آگئی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تو معاشی مسئلہ ہے، دوسری وجہ معاشرتی ناہمواری یا ’’بہتر سے بہترین‘‘ کی تلاش ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں ادھیڑ پن میں چلے جاتے ہیں لیکن ان کی ’’بہترین‘‘ کی تلاش ختم نہیں ہوتی۔ وہ اسی تلاش میں ابدی منزل پا جاتے ہیں۔

میرا ایک دوست جس کی عمر تقریباً چالیس سال ہے، اس کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی؟ جناب فرماتے ہیں کہ ابھی تک مجھے میرے لیول کی لڑکی ہی نہیں ملی۔ میں نے کہا عمر تو گزر گئی۔ جناب فرماتے ہیں ’’ابھی تو میں جوان ہوں، میری عمر ہی کیا ہے، 30 سال۔‘‘ اس کے بالوں کی سفیدی کو فیشن سمجھ کر نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کا کیا لیول ہے؟ فرمانے لگے کہ پڑھی لکھی ہو، گوری چٹی ہو، پاک باز، باحیا ہو، میرے حکم کی پابند رہنے والی ہو۔ میں نے جب کہا کہ آپ تو ایسے ہیں؟ آپ کا تو فلاں فلاں کے ساتھ ’’چکر‘‘ چل رہا ہے۔ تو کہنے لگے کہ میں مرد ہوں، میری مرضی۔
ادھر یہی مزاج صنف نازک کا بھی ہے۔

دوسرا مسئلہ ذات برادری کا ہے۔ کوئی معیاری رشتہ مل بھی جائے تو ذات برادری آڑے آجاتی ہے۔ ’’کیا کہا برادری سے باہر کا رشتہ آرہا ہے۔ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ آئندہ ایسی بات سوچنا بھی نہیں، زندہ دفن کردیں گے۔ ٹھیک ہے اسلام میں تاکید ہوگی کہ لڑکی کی مرضی معلوم کرو۔ لیکن اسے دینِ دنیا کی الف ب کا کیا پتہ۔ یہ کیسے اپنے فیصلے خود کرسکتی ہے؟ اسلام نے تو اور بھی بہت کچھ تاکید کی ہے تو کیا اس پر عمل ہوتا ہے؟ بس ہم نے جہاں شادی طے کردی وہیں پر ہوگی، اگر بات نہ مانی تو مار کے اسی صحن میں گاڑ ڈالیں گے۔ بیٹی آخر ہم تیرا برا کیوں چاہنے لگے بھلا۔‘‘ یہ ’’ہٹلر‘‘جیسے ممی ڈیڈی کے خیالات ہیں۔
صرف بیٹی ہی نہیں بیٹوں کے بارے میں بھی یہی نظریہ ہے۔ ضرورت رشتہ کو نظریہ رشتہ بنادیا جاتا ہے۔ پرکھوں کی زبان کو بچانے کےلیے، چاچے، تایوں کی قبروں کو دیکھتے ہوئے اولاد کو قربانی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ بیٹا انجینئر ہوتا ہے تو اس کی شادی اَن پڑھ لڑکی سے کردی جاتی ہے۔ بیٹی ڈاکٹر تو اسے کسی ’’بابے دلہے‘‘ کی دلہن بنادیا جاتا ہے۔ جیسے اولاد نہ ہو بھیڑ بکری ہو، جہاں چاہا، جیسے چاہا کھونٹے کے ساتھ باندھ دیا۔ مان جائے تو دیوی نہ مانے تو چھنال۔

اگر بات بن بھی جائے تو لوگ لڑکیوں کا رشتہ دیکھنے جاتے ہیں، وہاں کیا دیکھتے ہیں؟ لڑکی چلتی کیسے ہے؟ اٹھتی، بیٹھی کیسے ہے؟ اس کا رنگ کیسا ہے؟ ناک اور آنکھیں کیسی ہیں؟ ٹیڑھا تو نہیں دیکھتی، بات کرتے ہوئے ہکلاتی تو نہیں۔ گھر میں کیا کیا ہے؟ جہیز میں کتنا ملے گا؟ چاہے ماں باپ کا گھر بمشکل چلتا ہو لاکھوں جہیز مانگ لیا جاتا ہے۔ جب کھا پی کر تسلی ہوجاتی ہے تو جاتے ہوئے کہا جاتا ہے ’’ہمیں آپ کی لڑکی پسند نہیں آئی‘‘۔ سوچیے اس لڑکی پر کیا گزرتی ہوگی۔

جب کسی لڑکی یا لڑکے کے رشتوں کے حوالے سے بار بار انکار کیا جاتا ہے تو وہ ان کےلیے روگ بن جاتا ہے۔ ذہنی بیماریوں، خودکشیوں میں اضافے کی وجہ یہ رویے ہیں جو معاشرے میں تیزی سے پنپ رہے ہیں۔ ان کے آگے دیوار نہ کھڑی کی گئی تو یاجوج ماجوج کی قوم کی طرح انسانوں کو چاٹ جائیں گے۔ ’’لڑکی پسند نہیں آئی‘‘ کی ذہنیت سے نکل کر مناسب رویے اپنانے ہوں گے، وگرنہ یہی سماج ریاست، پنچایت، پولیس، کچہری میں بدلتا رہے گا۔ عورتیں ’’کالی‘‘ اور ’’ونی‘‘ کے نام پر طاقت کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی۔

اظہر تھراج
شکریہ کے ساتھ

نوٹ: میڈیا ون نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں