شہریت کے ترمیمی بل سے انڈین آئین کی خلاف ورزیاں ؟

انڈیا نے پیر کو ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں شہریت کے ترمیمی بل کو اکثریت رائے سے منظور کر لیا لیکن اس کے مخالفین نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل انڈین آئین کے آرٹیکل 5، 10، 14 اور 15 کی روح کے منافی ہے۔

بہت سے سیاسی اور سماجی حلقے بھی اس بل کو متنازع قرار دے رہے ہیں جس میں بنگلہ دیش، افغانستان اور پاکستان کی چھ اقلیتی برادریوں (ہندو، بدھ، جین، پارسی، عیسائی اور سکھ) سے تعلق رکھنے والے افراد کو انڈین شہریت دینے کی تجویز ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔ کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چودھری نے بھی اس بل کو آرٹیکل 5، 10، 14 اور 15 کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تاہم وزیر داخلہ امت شاہ کا کہنا ہے کہ یہ بل اقلیتوں کے خلاف نہیں ہے۔

کیا شہریت کا ترمیمی بل 2019 انڈین آئین کے مختلف آرٹیکلز کی خلاف ورزی کرتا ہے؟ اس کے متعلق بی بی سی کی نمائندہ گرپریت سینی نے ہماچل پردیش نیشنل لا یونیورسٹی کے پروفیسر چنچل سنگھ سے بات چیت کی۔

پروفیسر چنچل سنگھ نے کیا کہا؟
شہریت کے ایکٹ 1955 میں بیرون ملک سے غیر قانونی طور پر آنے والے لوگوں کی تعریف کی گئی ہے۔ اس میں دو زمرے ہیں – ایک جو پاسپورٹ یا ویزے یعنی بغیر ضروری دستاویزات لے آئے ہیں اور دوسرے جو صحیح دستاویزات لے کر آئے لیکن مقررہ وقت کے بعد بھی یہاں رہے۔

اسی کے سیکشن دو میں ایک ترمیم کی جارہی ہے۔ بنگلہ دیش، افغانستان اور پاکستان سے چھ برادریوں کو غیر قانونی تارکین وطن کے زمرے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ لیکن اس ترمیمی بل میں کوئی لفظ ‘مسلم’ نہیں ہے۔

یعنی اگر ان تینوں ممالک سے کوئی دستاویزات کے بغیر آیا ہے اور وہ مسلمان ہے تو وہ غیر قانونی تارکین وطن کہلائے گا اور اسے انڈیا میں شہریت کے لیے درخواست دینے کا حق نہیں ہوگا۔

اب تک کوئی بھی شہریت کی درخواست دینے کا اہل نہیں تھا لیکن اس بل کی منظوری کے بعد مسلمانوں کے علاوہ باقی چھ مذہبی برادریاں اہل ہوں گی۔

اسی لیے یہ کہا جارہا ہے کہ مسلم برادری کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک کیا جارہا ہے جو انڈین آئین کی روح کے منافی ہے۔

آرٹیکل 5
آرٹیکل پانچ میں کہا گیا ہے کہ جب آئین نافذ ہو رہا تھا تو اس وقت انڈیا کا شہری کون ہوگا۔

اس کے مطابق:
اگر کوئی شخص انڈیا میں پیدا ہوا تھا، یا
جس کے والدہ یا والد انڈیا میں پیدا ہوئے تھے، یا
اگر کوئی شخص آئین کے نفاذ سے قبل کم از کم 5 سال سے انڈیا میں رہ رہا ہے تو وہ انڈیا کا شہری ہوگا۔
جب 26 جنوری سنہ 1950 کو یہ آئین نافذ ہوا اس دن انڈیا کا شہری کون ہوگا اس کا ذکر آئین کے آرٹیکل پانچ میں موجود ہے۔

پروفیسر چنچل سنگھ نے کہا: ‘آرٹیکل پانچ کو جس جذبے کے ساتھ لکھا گیا ہے اس کے بارے میں دلیل بہت حد تک درست نہیں ہے کہ یہ آرٹیکل پانچ کی خلاف ورزی ہے۔ کیوں کہ جب آئین نافذ ہو گیا تو آرٹیکل 5 اہم نہیں رہا اور آرٹیکل 7، 8، 9 اور 10 اہم ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد آرٹیکل 11 اہم ہے کیوںکہ یہ پارلیمنٹ کو بہت وسیع اختیارات دیتا ہے۔’

آرٹیکل 10
انڈین آئین کا آرٹیکل 10: حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ اس آرٹیکل کے ذریعے شہری حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔

لیکن پروفیسر چنچل کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 10 میں شہریت برقرار رکھنے کی بات کی جارہی ہے جبکہ نئے شہریت ترمیمی بل میں شہریت ختم کرنے کی بات نہیں کی گئی ہے۔

ان کے بقول اس نئے بل میں ایسی کوئی شق نہیں ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر آج آپ شہری ہیں تو کل سے آپ کو شہری نہیں سمجھا جائے گا۔ مطلب ایک بار جو شہریت ملی وہ جاری رہے گی۔

ان کے مطابق شہریت کا ترمیمی بل آرٹیکل 10 کی براہ راست خلاف ورزی نہیں کرتا ہے اور یہ آرٹیکل 11، آرٹیکل 9 اور 10 کو اوور رائٹ کرسکتا ہے۔

پروفیسر چنچل سنگھ کا کہنا ہے کہ ‘ ترمیمی بل آرٹیکل پانچ اور دس کی خلاف ورزی معلوم نہیں ہوتا لیکن پارلیمنٹ کو آرٹیکل پانچ اور 10 کی دفعات کے علاوہ پارلیمنٹ کے قوانین کے تحت آرٹیکل 11 میں قوانین بنانے کا بہت وسیع حق حاصل ہے۔ تاہم اس وسیع طاقت کے باوجود بھی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی ہے کیونکہ آرٹیکل 13 کہتا ہے کہ اگر اس طرح کا کوئی قانون بنایا گیا جو کہ آئین کے حصہ 3 کی کسی شق کے خلاف ہو تو وہ غیر آئینی ہوگا۔’

آرٹیکل 14
اس میں آئین کی نظر میں مساوات کا ذکر ہے یعنی انڈیا کی سرزمین میں کسی بھی فرد کو قانون کی نظر میں مساوات یا مساوی حقوق کے تحفظ سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

پروفیسر چنچل کہتے ہیں کہ ‘انڈین آئین کی بنیاد مساوات ہے۔ واضح طور پر جب اس کی خلاف ورزی ہو رہی تو اس کی روح مجروح ہو رہی ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ بنیادی ڈھانچے کی خلاف ورزی ہے۔ جب سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کسی قانون کی صداقت کی جانچ کرتی ہے تو وہ بنیادی ڈھانچے کو قانون سازی پر نافذ نہیں کرتی ہے۔ وہ صرف آئین کے ترمیم شدہ قانون پر عائد ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ نیا بل مستثنی ہو گیا ہے. سپریم کورٹ کے پاس کئی بنیادیں ہیں. پہلی گراؤنڈ تو آرٹیکل 13 ہے. اگر عدالت کو محسوس ہوتا ہے کہ کسی بنیادی حق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو وہ آرٹیکل 13 کا استعمال کر سکتا ہے۔’

آرٹیکل 15
ریاست کسی شہری کے ساتھ مذہب، نسل، ذات، جنس، جائے پیدائش یا ان میں سے کسی بھی بنیاد پر کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں کرے گی۔

پروفیسر چنچل کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 14 اور 15 کی خلاف ورزی کی بنا پر اسے عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے اور حکومت کے لیے عدالت میں اس کا دفاع کرنا مشکل ہوگا۔

پروفیسر چنچل کا کہنا ہے کہ اس بل سے واضح طور پر مذہبی بنیادوں پر امتیاز برتا جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا: ‘اس نئے ترمیمی بل کی تمہید میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں ممالک میں ان (چھ) برادریوں کے خلاف ظلم کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اسلامی ممالک ہیں۔ لیکن قانونی طور پر یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ صرف ان مذاہب کے لوگوں پر ہی ظلم کیا جاتا ہے اور اسے ہمارے آئین کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ کسی کے حق کو محدود نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ آرٹیکل 14 کے تحت کسی بھی شہری کو یہ حق حاصل نہیں ہے ، لیکن ہر اس شخص کو یہ حق حاصل ہے جو ہندوستان میں ہے۔ چاہے وہ غیر قانونی طور پر آیا ہو۔ لہذا اس میں کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آرٹیکل 14 اور 15 کے تحت ان کا غیر قانونی ہونا ختم ہو گيا لیکن اس کے تحت ان کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاسکتا۔’

یہ بنیادی شہری حقوق حکومت کے اختیارات کی ایک حد مقرر کرتے ہیں۔

آرٹیکل 11
آئین کے اس آرٹیکل کے تحت پارلیمنٹ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شہریت کے ضابطے بنا سکے۔ یعنی وہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ کس کو شہریت ملے گی، کب ملے گی، کب کون نااہل قرار دیا جائے گا اور کن کن حالات میں کوئی غیر ملکی انڈیا کا شہری بن سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کو ان تمام چیزوں پر قانون بنانے کا حق دیا گیا ہے۔

آرٹیکل 13
اس آرٹیکل کے حصہ تین میں انڈیا کے شہریوں اور انڈیا میں رہنے والوں کے کئی بنیادی حقوق کا ذکر ہے۔ آرٹیکل 13 کا کہنا ہے کہ نہ ہی پارلیمنٹ اور نہ ہی حکومت یا کوئی ریاست ایسا کوئی قانون تشکیل دے سکتی ہے جو ان بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرے۔

اور شاید اسی لیے ادھیر رنجن چودھری اور ترمیمی بل کے دیگر مخالفین کا کہنا ہے کہ اس میں مذہب کی بنیاد پر تعصبات ہیں۔

با شکریہ بی بی سی اُرْدُو

اپنا تبصرہ بھیجیں