ایران کا جواب: بغداد میں عین الاسد اور اربیل امریکی ہوائی اڈوں پر راکٹ حملے

تہران: ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب میں ایران نے عراق میں امریکیوں کے زیر استعمال فوجی اڈوں پر میزائل حملے کردیے۔

ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ حملہ پاسداران انقلاب کی جانب سے کیا گیا جس میں زمین سے زمین پر مار کرنے والے درجنوں میزائل داغے گئے جب کہ حملے میں عراقی فوجی اڈوں عین الاسد،اربیل اور تاجی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں کا نشانہ بنائےجانے والے مقامات پر امریکی اور دیگر اتحادی ملکوں کے فوجی تعینات ہیں تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

پینٹاگون کی بھی تصدیق
امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون نے بھی عراق میں امریکی فوج کے اڈے پرحملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران نے عراق میں 2 فوجی اڈوں پر ایک درجن سے زائد میزائل فائر کیے۔

امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ امریکی ریڈار دوران پرواز میزائلوں کابروقت پتاچلانے میں کامیاب رہے تھے جس کے باعث امریکی فوجی محفوظ مقام پر منتقل ہوگئے تھے۔

ایرانی میزائل حملوں کے بعد بغداد میں بڑی تعداد میں لڑاکا طیاروں کی پروازیں جاری ہیں۔

پاسداران انقلاب کی امریکا کو وارننگ
ایرانی پاسداران انقلاب نے حملے کو شاہد سلیمانی آپریشن کا نام دیتے ہوئے اس کی تصدیق کی ہے۔

پاسداران انقلاب کا کہنا ہےکہ کارروائی جنرل قاسم سلیمانی کو امریکی فوج کے قتل کےجواب میں کی گئی۔

پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ جو زمین ایران کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال ہوئی اسے ہدف بنائیں گے۔

پاسداران انقلاب نے امریکا کے علاقائی اتحادیوں کو ایران مخالف جارحیت کاحصہ بننے سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ ایرانی سرزمین پر حملہ ہوا تو اسرائیل کا شہرحیفہ تیسرا نشانہ ہوگا۔

ایران کا امریکا کے خلاف 13 اقسام کی کارروائیوں پر غور
دوسری جانب ایران جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا انتقام لینے کے لیے امریکا کے خلاف 13 اقسام کی کارروائیوں پر غور کررہا ہے۔

علی شمخانی نے اگرچہ اس حوالے سے مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی مگر تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر امریکی فوجیں ہمارے خطے سے فوراً خود نہیں نکلیں تو ہم ان کا کچھ کریں گے کہ ان کی لاشیں یہاں سے جائیں گی۔

خیال رہے کہ ایران نے عراق میں جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد امریکا سے بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے اور پاسداران انقلاب نے کہا ہےکہ وہ جلد امریکا کی اس عارضی خوشی کو سوگ میں تبدیل کر دیں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی اپنے ردعمل میں کہا کہ جنرل سلیمانی پر حملہ کر کے امریکا نے عالمی دہشتگردی کی ہے، امریکا نے انتہائی خطرناک اور بے وقوفانہ اقدام اٹھایا ہے جس کی قیمت انہیں چکانی پڑے گی۔

ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے 35 مقامات اہداف پر ہیں جس کے جواب میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ ہمارے پاس دنیا کی سب سے بہترین فوج ہے، اگر ایران نے حملہ کیا تو ان کے بہت سے مقدس اور اہم ثقافتی مقامات سمیت 52 اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں