مجھے پتا ہے کہ سازش کون کر رہا ہے اور اس کے پیچھے کون ہے؟ وزیراعظم عمران خان

لاہور: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عثمان بزدار کو ہٹایا تو نئے وزیراعلیٰ کو بھی ایسے ہی ہٹا دیا جائے گا۔ نیا وزیراعلیٰ مقرر کیا گیا تو وہ 20 روز بھی نہیں چل سکے گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے زیر صدارت ارکان اسمبلی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان نے واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اعلان کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ میں عثمان بزدار کو کسی صورت ان کے عہدے سے نہیں ہٹاؤں گا۔

وزیراعظم عمران خان نے ارکان اسمبلی پر واضح کر دیا کہ مجھے پتا ہے کہ سازش کون کر رہا ہے اور اس کے پیچھے کون ہے؟

وزیراعظم نے تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی سے کہا کہ آپ سے ملاقات کا مقصد آپ کے حلقوں کے مسائل جاننا اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سےمتعلق رکاوٹوں کے حل کیلئے ہدایات دینا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے منشور کا بنیادی نقطہ کرپشن کا خاتمہ ہے لیکن ایک منظم مافیا حکومت کے خلاف منفی تاثر کو فروغ دے رہا ہے۔ جان بوجھ کر ہر روز افراتفری کی باتیں کی جاتی ہیں تاکہ جو ہم مثبت انتظامی تبدیلی لے کر آئے ہیں، اسے ناکام بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار بڑے جرائم پیشہ افراد کے خلاف ایکشن ہوا اور قبضہ مافیا قانون کی گرفت میں آیا ہے۔ جب حکومت سنبھالی تو ملک کو تاریخی خسارے اور قرضوں کا سامنا تھا لیکن آج دنیا پاکستان کو سرمایہ کاری کےلئے پرکشش ملک کے طورپر دیکھ رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ڈیووس میں جس طرح پذیرائی ملی، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے صوبائی حکومت، انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کے مابین ایک مربوط میکانزم پر زور دیا اور ارکان اسمبلی کو ہدایت دی کہ وہ اپنے حلقوں میں عوام سے قریبی رابطہ رکھیں اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان اہم دورے پر لاہور پہنچے تو وزیراعلیٰ پنجاب نے انھیں صوبے کے ترقیاتی منصوبوں سمیت اہم امور پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے منشور کا بنیادی مقصد کرپشن کا خاتمہ ہے لیکن منظم مافیا حکومت کے خلاف منفی تاثر کو فروغ دے رہا ہے۔

وزیراعلیٰ کی جانب سے وزیراعظم کو رپورٹ بھی پیش کی گئی جس میں انھیں بتایا گیا کہ پنجاب میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 22 جنوری تک 187 ارب روپے جاری کئے گئے جن میں سے مختلف منصوبوں پر 107 ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ صوبائی حکومت نے پسماندہ علاقوں کے فنڈز کو کسی دوسرے علاقے یا منصوبے کیلئے منتقل کرنے پر پابندی عائد کی ہے۔

وزیراعظم نے ہدایات جاری کیں کہ ترقیاتی پروگرام کے تحت سکیموں پر کام کی رفتار تیز اور جاری ہونے والے فنڈز کا بروقت استعمال یقینی بنایا جائے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کو ریلیف پہنچانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ صوبائی وزرا اپنے اپنے محکموں میں گڈ گورننس کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کو قبضہ مافیا، منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں سے مزید سختی سے نمٹنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ایسے عناصر کو کسی صورت مت چھوڑیں اور سخت سزا دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں