نور مقدم کیس کے حوالے سے مس انفارمیشن پھیلائی جا رہی ہے۔ ایس ایس پی انوسٹی گیشن

اسلام آباد: (میڈیا ون نیوز) اسلام پولیس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ نور مقدم قتل کیس کا کوئی بھی عینی شاہد نہیں ہے۔ مقامی شہری کی اطلاع پر پولیس موقع واردات پر پہنچی اور ملزم کو گرفتار کیا۔

اسلام آباد میں میڈیا کو اہم بریفنگ دیتے ہوئے اس کیس کی تفتیش پر مامور ایس ایس پی انوسٹی گیشن عطا الرحمان نے کہا کہ اس واقعہ کے تمام فرانزک ثبوت اکھٹے کر لئے گئے ہیں۔ مقتولہ کی بڑی بے رحمی سے جان لی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اطلاع ملتے ہی پولیس حرکت میں آئی اور ملزم کو موقع سے گرفتار کیا، اس سے تفتیش کی جا رہی ہے جبکہ اس کے 2 سیکیورٹی گارڈز کے بیانات بھی قلمبند کر لیے گئے ہیں۔

ایس ایس پی انوسٹی گیشن نے کہا کہ کیس کے حوالے سے مس انفارمیشن پھیلائی جا رہی ہے۔ ہمارا سارا فوکس واردات پر ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔ بعد ازاں ڈیوٹی مجسٹریٹ نے ملزم کا 3 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرکے اسے پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ قتل کی دفعہ 302 کے تحت درج کیا گیا۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ 19 جولائی کو نور مقدم میری اور اہلیہ کی غیر موجودگی میں گھر سے نکلی تھی، رات کے وقت اطلاع ملی کہ نور دوستوں کے ساتھ لاہور جا رہی ہے۔ اس نے ایک دو دن میں واپس آنے کا کہا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ظاہر جعفر کا فون آیا کہ نور اس کے ساتھ نہیں ہے۔ رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے۔ وہاں پہنچا تو میری بیٹی کا گلہ کٹا ہوا تھا۔ پولیس نے گرفتار ملزم کو ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا، عدالت نے ملزم کا تین روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

دوسری جانب گزشتہ روز آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان نے سینئر افسران کے ہمراہ جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور اب تک کی جانے والی تحقیقات کی پیشرفت کا جائزہ لیا۔

انھیں بتایا گیا کہ تفتیش کے لئے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ اس تفتیشی ٹیم میں ایس ایس پی انوسٹی گیشن، ایس پی سٹی زون، اے ایس پی کوہسار، ایس ایچ او کوہسار اور انوسٹی گیشن آفیسر کوہسار شامل ہیں۔

آئی جی اسلام آباد کو بتایا گیا کہ قتل کے وقوعہ میں ملوث ملزم ظاہر جعفر کا 3 دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرکے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

آئی جی اسلام آباد نے تفتیشی ٹیم کو حقائق پر مبنی اور قانون کے مطابق سختی سے تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں