عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات کی اجازت دے دی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دی ہیگ میں قائم جرائم کی عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پراسیکیوٹر کو اختیار ہے وہ یکم مئی 2003 سے افغانستان میں امریکی فورسز سمیت دیگر فورسز اور افغان حکومت کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کرے۔

عالمی عدالت کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی افواج کے ذریعے ہونے والے ممکنہ جنگی جرائم سمیت افغان حکومت اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے مبینہ طور پر ہونے والے ظلم و بربریت کی تحقیقات کو آگے بڑھانا چاہیے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پراسیکیوٹر کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی تحقیقات سے ایسے معقول جواز ملے ہیں جو افغانستان میں مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کو آگے بڑھانے پر زور دیتے ہیں۔

عدالت کامزید کہنا ہے کہ افغانستان ایک ممبر کی حیثیت سے جرائم کی بین الاقوامی عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

اس سے قبل گذشتہ سال آئی سی سی کی ایک زیریں عدالت نے افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات کی درخواست مسترد کردی تھی۔

خیال رہے کہ امریکا دی ہیگ میں قائم عالمی عدالتِ جرائم کا رکن نہیں ہے اور اس کے دائرہ اختیار کو مسترد کرتا ہے، گذشتہ سال امریکی حکومت نے آئی سی سی کے ملازمین پر سفری اور دیگر پابندیاں بھی عائد کی تھیں۔

‘افغانستان میں وسیع پیمانے پر جنگی جرائم کے امکانات ہیں’

گیمبیا سے تعلق رکھنے والی آئی سی سی کی پراسیکیوٹر فاتو بینسوڈا کا کہنا ہے کہ افغانستان میں 2003 سے 2014 کے درمیان امریکا، افغان فورسز اور طالبان سمیت دیگر گروہوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر جنگی جرائم کے امکانات ہیں۔

واضح رہے کہ عالمی عدالت جرائم کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کو ہوئے چند روز ہی ہوئے ہیں۔

اس معاہدے کی رو سے امریکا اور اتحادی افواج 14 ماہ کے دوران مشروط طور پر افغانستان سے انخلا کریں گی جس کے بعد امید کی جارہی ہے کہ امریکا اپنی تاریخ کی طویل ترین جنگ سے باہر نکل آئے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں