محبت کی شادی کرنا میرے لیے جرم بن گیا- جان کا خطرہ ہے حکومت تحفظ فراہم کرے

ٹنڈوآدم (رپورٹ منورعلی قریشی) مجھے اور میری اہلیہ اور بچی کو میرے سسر انور علی جو کہ پولیس میں ہے ان سے جان کا خطرہ ہے حکومت سندھ ہمیں تحفظ فراہم کرے

تفصیلات کے مطابق ٹنڈوآدم کے علاقے جوہر آباد کی رہائشی زاہد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محبت کی شادی کرنا میرے لیے جرم بن گیا میں نے مریم بانو سے معزز عدالت میں پسند کی شادی کی ہے لیکن جب سے میں نے اپنی بیوی سے پسند کی شادی کی ہے جب سے میرے سسر انور علی جو کے شہدادپور پولیس میں ہیں میری اور میری اہلیہ اور بیٹی کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور موبائل فون میں مجھے سنگین نوعیت کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے میری بیٹی کی بدلے مجھے دو لاکھ روپے دے دو یا مجھے میری بیٹی لوٹا دو اگر دونوں میں سے ایک کام بھی نہیں کیا تو میں پولیس میں ہوں میں تمہارے ساتھ بہت کچھ کرسکتا ہوں جبکہ دوسری جانب زاہد خان کی اہلیہ اور زاہد خان سے کورٹ میں محبت کی شادی کرنے والی لڑکی مریم بانو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے شوہر زا ھد خان اور اپنی بچی کے ساتھ بہت خوش ہوں لیکن افسوس کی بات ہے کہ میرے والد انور علی جو کہ شہدادپور میں رہتے ہیں اور پولیس میں نوکری کرتے ہیں انہوں نے میرا اور میرے شوہر کے ساتھ جینا حرام کر دیا ہے اور میرے بدلے میرے شوہر سے دو لاکھ روپے میں مانگ رہے ہیں جیسے میں کوئی بھیڑ بکری ہوں میں نے زاہد خان سے بخوشی کورٹ میرج کی ہے اور زاہد خان میرا بڑا خیال رکھتے ہیں اور جب کہ میرے والد نے میرے گھر شہدادپور میں میرے قیمتی سامان اور کاغذات پر قبضہ کیا ہوا ہے میں حکومت سندھ صوبائی وزیر داخلہ آئی جی سندھ پولیس آر پی او حیدرآباد ڈی آئی جی شہید بے نظیر آباد ایس ایس پی سانگھڑ ڈی ایس پی ٹنڈوآدم ایس ایچ او ز ڈی ایس پی شہدادپور سے مطالبہ کرتی ہوں کہ مجھے اور میرے شوہر اور میری بچی کو تحفظ فراہم کیا جائے اگر مجھے مجھے میرے شوہر اور میری بچی کو کسی بھی قسم کا کوئی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار میرے والد انور علی ہوں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں