وفاقی حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید کو براڈشیٹ انکوائری کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا۔

اسلام آباد: (میڈیا ون نیوز) وفاقی حکومت نے براڈ شیٹ معاملے پر جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید کو براڈشیٹ انکوائری کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ براڈ شیٹ معاملہ پر انکوائری کمیٹی کے سربراہ جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ ہونگے۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اپنے بیان میں بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید کو براڈشیٹ انکوائری کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا ہے، کمیٹی کے باقی ممبران کا تقرر جسٹس عظمت سعید کی مشاورت سے کیا جائیگا۔

خیال رہے منگل کو وفاقی کابینہ نے براڈ شیٹ کے معاملے پر ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دے دی تھی۔ کمیٹی 45 روز میں تحقیقات مکمل کرے گی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے وفاقی وزیر فواد چوہدری اور شیریں مزاری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ کابینہ نے براڈ شیٹ کے معاملے پر انکوائری کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کا ریٹائرڈ جج، ایف آئی اے کا سینیئر افسر، وزیراعظم کی جانب سے نامزد سینیئر وکیل اور اٹارنی جنرل آفس کا ایک نمائندہ بھی کمیٹی میں شامل ہوگا۔

یاد رہے کہ جسٹس عظمت سعید شیخ نے سپریم کورٹ میں لگ بھگ 7سال خدمات انجام دی ہیں ۔ اس دوران انہوں نے مشہور زمانہ پاناما مقدمے سمیت لاتعداد مقدمات کی سماعت کے بعد اہم فیصلے دیے ہیں۔ انہوں نے یکم جون 2012 کو سپریم کورٹ میں بطور جج حلف اٹھایا ۔ اس وقت کے چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چودھری نے ان سے حلف لیا تھا۔ وہ 29جولائی 2012 سے 12سال قبل جسٹس شیخ عظمت سعید لاہور ہائی کورٹ کے واحد چیف جسٹس تھے جو تقریبا چھ ماہ ہی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ سکے۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین نیب آکر بتائیں کہ یہ سب کب اور کس کے دور میں ہوا۔

خیال رہےکہ غیر ملکی اثاثہ جات ریکوری فرم براڈ شیٹ کے ثالثی دستاویز اور کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کاوے موسوی کے دیے گئے بیانات سے پاکستان میں ایک نیا تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

براڈ شیٹ کی جانب سے تصفیحے سے متعلق تیار کردہ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح مشرف دور کی حکومت اور نیب کی جانب سے انہیں شریف خاندان کی بدعنوانی کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی اور اس دوران کمپنی کے سی ای او کاوے موسوی سے مختلف شخصیات نے ملاقاتیں کیں اور ان سے کیا گفتگو ہوئی۔

یہ معاملہ پاکستانی حکومت کی جانب سے براڈ شیٹ کو دو کروڑ87 لاکھ ڈالر جرمانے کی ادائیگی سے شروع ہوا اور اس کے بعد یہ سیاسی منظر نامے پر ایسے چھایا ہوا ہے جیسے گذشتہ دور حکومت میں پانامہ پیپرز کا معاملہ ابتدا میں ہلچل کا باعث بنا تھا۔

اس بارے میں تفصیلات سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ جاری ہے۔ وزیر اعظم عمران خان بھی اس معاملے کو پانامہ لیکس سے تشبیہ دے چکے ہیں۔ دوسری جانب براڈ شیٹ کے سی ای او کاوے موسوی سے میل ملاقاتوں اور ان کے بیانات پر بھی بحث ومباحثے جاری ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں