سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کا صدارتی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

اسلام آباد: (میڈیا ون نیوز) جمعیت علماء اسلام (ف) نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کا صدارتی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کے صدارتی آرڈیننس کے خلاف درخواست ایڈووکیٹ جہانگیر جدون نے دائر کی۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کا نوٹس لے، صدارتی آرڈیننس کو حکومت بدنیتی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے، صدارتی آرڈیننس کو غیر معقول اور خلاف آئین قرار دیا جائے، صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سپریم کورٹ، پارلیمنٹ کی خود مختاری کو سبوتاژ کیا گیا۔

سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوسکیں گے: صدرعلوی نے آرڈیننس جاری کردیا

یاد رہے مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے الیکشنز ترمیمی آرڈیننس 2021ء جاری کیا تھا، آرڈیننس کے تحت سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو سکیں گے۔ آرڈیننس کو سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر رائے سے مشروط کیا گیا ہے۔

آرڈیننس کے مطابق سپریم کورٹ سے سینیٹ الیکشن آئین کی شق 226 کے مطابق رائے ہوئی تو سیکرٹ ووٹنگ ہوگی، سپریم کورٹ نے اگر سینیٹ الیکشن کو الیکشن ایکٹ کے تحت قرار دیا تو اوپن ووٹنگ ہوگی۔ آرڈیننس کے تحت الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 122 میں ترمیم کی گئی، آرڈیننس کے تحت پارٹی سربراہ ووٹ دکھانے کی درخواست کرسکے گا، الیکشن کمیشن پارٹی سربراہ یا اس کے نمائندے کوووٹ دکھانے کا پابند ہوگا۔

آرڈیننس کے تحت پارٹی سربراہ ووٹ دکھانے کی درخواست کر سکے گا۔ الیکشن کمیشن پارٹی سربراہ یا اس کے نمائندے کو ووٹ دکھانے کا پابند ہوگا تاہم آرڈیننس کو سپریم کورٹ کی سینیٹ انتخابات سے متعلق دائر ریفرس پر رائے سے مشروط رکھا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں