دھاندلی اور شدید بدنظمی کی شکایات : این اے 75 ڈسکہ کے انتخابی نتائج روک لیے گئے ہیں۔

ڈسکہ: (میڈیا ون نیوز) الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں ضمنی انتخاب کا غیر حتمی سرکاری نتیجہ روک لیا ہے جب کہ پی ٹی آئی اور (ن) لیگ کے فتح کے دعوے کررہے ہیں۔

میڈیا ون نیوز کے مطابق گزشتہ روز ڈسکہ سے قومی اسمبلی کے نشست این اے 75 پر ضمنی انتخاب ہوا تھا، حلقے میں تحریک انصاف کے علی اسجد خان اور (ن) لیگی امیدوار سیدہ نوشین افتخار کے درمیان کانٹے کا مقابلہ تھا۔

20 پولنگ اسیٹشنز کا عملہ نتائج کے ہمراہ ریٹرننگ افسر کے پاس نہیں پہنچ سکا تھا جس کی وجہ سے رات گئے تک مکمل نتائج سامنے نہیں آ سکے تھے۔ غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق (ن) لیگی امیدوار کو اپنے مدمقابل پر معمولی برتری حاصل تھی۔ جس کی وجہ سے دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے امیدوار کی کامیابی کے دعوے کئے ہیں۔
دوسری جانب ریٹرننگ افسر نے غیر سرکاری حتمی نتیجہ روک دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق لا پتا ہونے والے پولنگ اسٹیشنز کا عملہ ڈی آر او آفس سیالکوٹ پہنچ گیا تاہم ریکارڈ ٹیمپر لایا گیا ہے، پولیس کسی قسم کا تحفظ دینے کے لیے تیار نہیں ہو رہی، ڈی پی او فون سن رہے ہیں لیکن پولیس کو ایکشن کی کوئی ہدایات نہیں دے رہے۔ وزیر اعلی کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان بھی ریٹرنگ آفسر کے دفتر میں موجود ہیں۔

واضح رہے کہ ڈسکہ میں گزشتہ روز پولنگ کے دوران امیدواروں کے حمایتیوں میں روایتی لڑائی جھگڑے اور پولنگ سست ہونے پر تلخ کلامی کے واقعات پیش آئے تھے، اس کے علاوہ فائرنگ کے ایک واقعے میں 2 افراد بھی جاں بحق ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں