پی ٹی آئی امیدوار نے فائرنگ کی۔ کل تاریخی دھاندلی ہوئی- مریم نواز

لاہور: (میڈیا ون نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ن لیگ کو نوشہرہ، وزیر آباد اور ڈسکہ کے تینوں حلقوں میں شاندار فتح ملی۔ ڈسکہ، وزیر آباد اور نوشہرہ میں ہونے والے انتخابات میں کارکنوں نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے بیانیے کی حمایت کی بلکہ ووٹ کی عزت کے لیے پوری جنگ لڑی۔

ماڈل ٹاؤن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ ڈسکہ، وزیر آباد اور نوشہرہ کے عوام جاگ گئے تھے اور ووٹ پر پہرے دیتے رہے، اور اسی دوران انہوں نے ووٹ چوروں کو پکڑ لیا۔ کارکنوں نے دھاندلی کے ماحول میں باہر نکل کر ووٹ ڈالا، لیگی کارکن خوف و ہراس کے ماحول میں ڈٹے رہے، ن لیگ کو تینوں حلقوں میں شاندار فتح ملی۔ کوئی شک نہیں تینوں سیٹیں ن لیگ کی تھیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ نوشہرہ میں اختیار ولی کو الیکشن جیتنے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ الیکشن کمپین کے دوران ہی پتہ چل گیا تھا کہ الیکشن ہم جیتیں گے، میاں نواز شریف کا بیانیہ وہاں جیت گیا ہے۔ یہ نوشہرہ میں شکست کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ کو خوف و ہراس میں رکھا گیا، سینئر لیگی رہنما نے مجھے بتایا کہ اگر مجھے گرفتار کر بھی لیا جاتا تو کیا ہوتا، ووٹرز، اراکین اسمبلی اور ن لیگیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔ حکومتی عہدیداروں کی فائرنگ سے دو افراد جاں بحق ہوئے، اور الزام رانا ثناء اللہ پر لگایا جاتا ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ دو جانوں کے ضیاع پر مجھے بہت افسوس ہے، ان کی مغفرت کے لیے دعا کرتی ہوں، ڈسکہ کا الیکشن پاکستان مسلم لیگ ن نے جیت لیا ہے، سروے میں بھی ن لیگ لیڈ کر رہی تھی۔

لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کا جیتنا حکومت کے لیے موت سے بدتر ہے، ہماری جیت سے ان کے حواس باختہ ہو جاتے ہیں، حکومتی عہدیداروں کو نہیں پتہ تھا کہ یہ اتنی بری طرح ہاریں گے۔ پی ٹی آئی کے لوگوں نے فائرنگ کر کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلایا۔ پی ٹی آئی امیدوار اس کے بھانجے ،بھتیجوں نے فائرنگ کی۔ کل تاریخی دھاندلی ہوئی، جسے بے نقاب کرنا چاہتی ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ ان کی نااہلیوں سے تنگ آ چکے ہیں، وزیرآباد میں ایک پریزائڈنگ آفیسر ووٹنگ بیگ لے کر بھاگ رہا تھا، وزیر آباد میں ہم پانچ سے چھ ہزار کی لیڈ سے جیتے ہیں۔ جہاں شیر جیت رہا تھا وہاں پولنگ بند کردی گئی،۔ ان کو اندر سے احکامات آئے تھے کہ پولنگ سست کردو۔ ان کے وزیر ، مشیر پولنگ اسٹیشن کے اندر کیا کررہے تھے۔ یہ ناکام ہوئے تو ڈسکہ ،وزیرآباد میں پولنگ سست روی کا شکار کردی۔ جب ثبوت ہوتے ہیں تو دکھائے جاتے ہیں الزامات نہیں لگائے جاتے۔

الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز پر رد عمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے سٹینڈ لینے پر خوشگوار حیرت ہوئی ہے۔ خوشی ہے کہ ای سی پی نے اپنا آئینی حق استعمال کیا ہے۔ کیا کبھی کسی نے سنا کہ الیکشن کمیشن کا پورا عملہ اٹھا لیا گیا۔ 20سے22پرائزئیڈنگ افسرغائب کردیئے گئے۔ 20پرائزئیڈنگ افسران کوفون کرتے رہے فون بھی بند تھے، اچانک غائب اورسب کے موبائل فون بھی بند ہوگئے، کوئی نہیں جانتا تھا کہ الیکشن کمیشن کا عملہ کہاں ہے، الیکشن کمیشن بھی کہہ رہا ہے کہ دھاندلی کا شبہ ہے، 23 پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ الیکشن کرائے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں